سرسی 10؍نومبر (ایس او نیوز) ٹیپو جینتی کے موقع پر بازو پر کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج کرنے والے بی جے پی ایم پی اننت کمار ہیگڈے ، ایم ایل اے وشویشورا کاگیری اور بی جے پی کارکنا ن کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق تحصیلدار کے دفتر میں ٹیپو جینتی منائی جارہی تھی۔ اس وقت بستی گلی میں واقع بی جے پی دفتر میں میٹنگ ختم کرکے بی جے پی کارکنان بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کراور بائک پر سوار ی کرتے ہوئے چائے پینے کے لئے سڑک پر نکلے۔اس موقع پر پولیس نے انہیں روکا اور بتایا کہ ضلع ڈی سی کے حکم کے مطابق دفعہ 144جاری ہے اس لئے کسی بھی قسم کے احتجاج اور عوامی مقام پر جمع ہونے پر پابندی ہے۔
اسی طرح شہر کے دیوی کیرے سرکل کے پاس مارکیٹ پولیس اسٹیشن کے ایس آئی سمپت کمار نے ایم پی کو روکا اور بازو پر احتجاجی علامت کالی پٹی باندھ کر سڑک پر گھومنے سے منع کیا۔اورکہا کہ اگر آگے جانا ہے تو پھر انہیں کالی پٹی اتارنی ہوگی۔اس پر اننت کمار نے اسے پولیس کی طرف سے دھونس اور زبردستی قرار دیتے ہوئے کالی پٹی اتارنے کے بجائے اپنا شرٹ اتارکر احتجاج کیا۔وہاں پر اخباری نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے اننت کمار نے کہا کہ''سراج رامیا (وزیر اعلیٰ سدارامیا) ہندوجذبات کو مجروح کرنے والی سیاست کررہے ہیں۔ پارٹی میٹنگ ختم کرکے اپنے گھروں کی طرف جانے والوں کو غیر ضروری طور پر پولیس نے گرفتار کیا ہے۔اور یہ سب ریاستی سرکار کی بد انتظامی کا نتیجہ ہے۔کنڑا مخالف، دیش مخالف اور ہندو دھرم کے مخالف ٹیپو کی جینتی منانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔''
صورتحال کو قابومیں کرتے ہوئے پولیس نے30سے زیادہ بی جے پی کارکنان کو اپنی حراست میں لیا اور انہیں ایک گھنٹے تک ٹورسٹ بنگلو میں نظر بند رکھنے کے بعد رہا کردیا۔مگر اس وقت بھی کانگریسی حکومت اور ٹیپو جینتی کی مخالفت میں نعرے بازی کی گئی۔اس موقع پر ایم ایل اے وشویشورا ہیگڈے کاگیری، بی جے پی لیڈر آر وی ہیگڈے، آر ڈی ہیگڈے، ریکھا ہیگڈے، شوبھا نائک، نندن ساگر، گنپتی نائک اور دیگر کئی کارکنان موجود تھے۔